Thursday, 28 May 2015

قرآن کے بارے میں سوال و جواب

سوال201:قرآن مجید کی کس آیت میں یہود و نصاری اور کافروں سے دوستی لگانا حرام قرار دیا گیا ہے؟
جواب: ارشاد باری تعالٰی ہے{یاایھا الذی امنوا لا تتخذوا الیھود و النصاری اولیاء بعض ومن یتو لھم منکم فانہ منھم ان اللہ لا یھدی القوم الظالمین}[اے ایمان والو! یہود و نصاری کو اپنا دوست نہ بناؤ یہ آپس میں ہی ایک دوسرے کےدوست ہیں اور تم مین سے جو ان کو دوست بنائے گا وہ ان ہی میں سے ہو گا بلا شبہ اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا] ( سورہ مائدہ آیت: 51)
دوسری آیت ہے{یا ایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء تلقون الیھم بالمودۃ و قد کفروا بما جاء کم من الحق یخرجون الرسول وایاکم ان تومنوا باللہ ربکم}[اے ایمان والوں! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم تو دوستی سے ان کی طرف پیغام بھیجتے ہواور حالانکہ وہ اس حق کے ساتھ جو تمہارے پاس آ چکا ہے کفر کرتے ہیں وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خود تمہیں بھی محض اس وجہ سے جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو ] (سورہ ممتحنہ آیت: 1 ) اس بارے میں اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

سوال202:قرآن مجید کی کس آیت میں اللہ تعالٰی نے درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا ہے؟
جواب: ارشاد باری ہے{ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی یاایھا الذی امنو اصلو اعلیہ وسلموا تسلیما}[اللہ تعالٰی اورس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں اے ایمان والو ! تم (بھی) ان پر درود بھیجواور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو ] ( سورہ احزاب آیت:56)

سوال203:کیا دعوت تبلیغ کی وجہ سے غیر مسلموں کو ترجمہ قرآن دیا جا سکتا ہے؟
جواب:جی ہاں دعوت و تبلیغ کی غرض سے ترجمہ قرآن دیا جا سکتا ہے، فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن جبرین حفظہ اللہ سے پوچھا گیا، کیا غیر مسلم ترجمہ و تفسیر قرآن چھو سکتا ہے؟ شیخ نے جوابا فرمایا اگر غیر مسلم قرآن کے معنی اور مفہوم کو جاننا، سمجھنا اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہو اور اس کی ہدایت کی امید ہو تو اسے ترجمہ و تفسیر دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہےگرچہ اس میں ترجمہ و تفسیر کے ساتھ قرآنی آیات بھی تحریر ہوں، دیکھئے (ابو انس علی بن حسین کی کتاب فتوی و احکام الی الداخلین فی الاسلام)
آج چونکہ غیر مسلموں میں قرآن فہمی کا ذوق و شوق بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے اس لئے قرآن کے ترجمہ کو مسلمانوں اور غیر مسلموں میں زیادہ سے زیادہ پھیلانا چاہئے تاکہ قرآن کا پیغام گھر گھر پہنچے اور غافل لوگ ہوشمیں آئیں نیز غیر مسلموں پر اللہ کی حجت قائم ہو۔

سوال204:بعض لوگون کا خیال ہے کہ عوام قرآن نہیں سمجھ سکتے، قرآن سمجھنا صرف علماء کا کام ہے عوام کے لئے بزرگوں کی کتابیں پڑھ لینا کافی ہے تو کیا واقعتا قرآن صرف علما کے سمجھنے کے لئے ہے؟
جواب:قرآن صرف علماؤں کے سمجھنے کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ تمام انسانوں کے لئے کتاب ہدایت ہے اور اس کا تقاضا ہے کے لوگ اس کا مطالعہ کریں اور اسے سمجھیں کیونکہ قرآن تو اپنے نزول کا مقصد ہی {لعلکم تعقلون}[تاکہ تم سمجھو] بتلاتا ہے ( سورہ یوسف آیت:2)قرآن کہتا ہے{ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مدکر}[اور ہم نے قرآن کو آسان بنایا ہے نصیحت حاصل کرنے کے لئے تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا](سورۃ القمر آیت:17) اس لئے یہ خیال کرنا کہ قرآن کو صرف علما ہی سمجھ سکتے ہیں سراسر غلط اور بے بنیاد ہے اور یہ در حقیقت لوگوں کو قرآن سے محروم کرنے کی ایک سازش ہے۔ ( ماخوذ من کتاب کیا قرآن کو سمجھ کر پڑھنا ضروری نہیں؟ للشیخ شمس پیرزادہ)

سوال205:کتنے دنون میں قرآن ختم کرنا بہتر ہے؟
جواب:قرآن ختم کرنے کے سلسلہ میں سلف کی عادتیں مختلف رہی ہیں بعض دو ماہ میں قرآن ختم کیا کرتے تھے اور بعض ایک ماہ میں، بعض دس دنوں میں بعض سات دنوں میںقرآن ختم کرنے کا عمل اکثر سلف کا رہا ہے۔ (علامہ نودی کی کتاب الاذکار ص 153)
بعض سے تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنا اور بعض سے ایک دن اور ایک رات میں بھی قرآن ختم کرنا ثابت ہے، اس سلسلہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ وعنہما کا واقعہ مشہور ہے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہےکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ تم روزانہ روزہ رکھتے ہو اور ایک رات میں قرآن پڑھ لیتے ہو ، میں نے کہا یا رسول اللہ یہ سچ ہے اور اس سے مقصول صرف اور صرف نیکی کا حصول ہے آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے فرمایا داؤد ولیہ السلام والا روزہ رکھو بیشک وہ بندوں میں بڑے عبادت گزار تھےاور مہینہ بھر میں قرآن ختم کیا کرو، میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تو اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ نے فرمایاتو پھر دس روز میں ختم کر لیا کرو، میں نے کہا کہ اے اللہ کے نبی ! میں تو اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر ایک ہفتے میں ختم کر لیا کرو اور اس سے آگے نہ بڑھو،
اس حدیث سے بعض لوگوں نے استدلال کرتے ہوئے قرآن ختم کرنے کی کم از کم مدت ایک ہفتہ بیان کی ہے، اور بعض لوگوں نے قرآن ختم کرنے کی کم سے کم مدت تین روز بیان کی ہے اور ان لوگوں نے عبداللہ بن عمر کی اس حدیث سے دلیل پکڑی ہے جس کو امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے ابواب القراء ات عن رسول صلہ اللہ علیہ وسلم کے تحت بیان کیا ہے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا {لم یفقہ من قرا القرآن فی اقل من ثلاث}[جس نے تین دن سے کم میں قرآن کو ختم کیا اس نے قرآن کو نہیں سمجھا] ( دیکھئے علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب سلسلہ الصحیحہ : 1513)
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ آدمی کی طاقت اور دلچسپی پر موقوف ہے، اس سلسلہ میں راجح بات وہی ہے جو علامہ نوعی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ کم از کم سات دن میں قرآن ختم کرنا چاہیے۔

سوال206: بے وضو قرآن چھونا کیسا ہے؟
جواب:اس سلسلہ میں علما کی رائے مختلف ہے بعض کی رائے یہ ہے کہ بے وضو قرآن نہ چھوا جائے اور ان کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے {لا یمسہ الا المطھرون}[قرآن کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں] ( سورہ واقعہ آیت :79) اور کہتے ہیں کہ اس آیت سے مرادجنابت اور حدث سے پاک لوگ ہیں اس لئے بے وضو قرآن چھونا منع ہے ان حضرات نے عمرو بن حزم کی اس حدیث سے بھی یہ دلیل لی ہے جسے امام مالک نے روایت کیا ہے {لا یمس المصحف الا طاھر}قرآن کو صرف پاک لوگ چھوتے ہیں ، لیکن یہ حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہے۔
بعض علما کی رائے یہ ہے کہ بے وضو قرآن چھو سکتا ہے اور کہتے ہیں کہ اس کی ممانعت کی کوئی صحیح اور صریح دلیل نہیں ہے،( نیز امام ابن حزم رحمۃ اللہ نے اپنی کتاب المحلی میں، امام ابن القیم رحمۃ اللہ نے البیان فی اقسام القرآن میں ، اور امام شوکانی رحمۃ اللہ نے نیل الاعطار میں اسی کو راجح قرار دیا ہے، عبداللہ بن عباس، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ شعبی اور امام ابو حنیفہ وغیرہم کی یہی رائے ہے)

سوال207:قرآنی آیتوں اور سورتوں کو لکھ کر گھر کی دیواروں، دکانوں، گاڑیوں اور چوراہوں پر لٹکانا کیسا ہے؟
جواب:افتاء کی دائمی کمیٹی کا فتوی ہے کہ قرآنی آیتوں اور سورتوں کو لکھ کر گھر کی دیواروں، دکانوں، گاڑیوں اور چوراہوں پر لٹکانا درج ذیل اسباب کی بنا پر منع ہے:
(1) قرآنی آیات اور سورتوں کے لٹکانے میں نزول قرآن کے مقاصد سے انحراف ہے۔
(2)یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے عمل کے سراسر خلاف ہے۔
(3) اللہ نے قرآن کریم پڑھنے کے لئے نازل کیا ہے نہ کہ تجارت کو فروغ دینے کے لئے۔
(4) اس میں آیات قرآنی کی بے حرمتی اور توہین ہے۔
(5)ایسا کرنے سے شرک کا دروازہ کھلنے کے ساتھ ساتھ آیات قرآنی پر مشتمل تعویذ و گنڈے کے جواز کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
Powered by Blogger.

My Blog List

Ads Banner

Followers

Site Info