Monday, 15 June 2015

رمضان المبارک 2015 کی آمد آمد ہے


رمضان المبارک 2015 کی آمد آمد ہے۔ لوگ تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کچھ لوگ سموسے، پکوڑے اور قیمہ والے رول بنانے میں مصروف ہیں تو کچھ لوگ بھوکا پیاسا رہنے کی پریکٹس کر رہے ہیں۔ آپ کس چیز کی پریکٹس کر رہے ہیں؟
یہ تحریر اس بلاگ سے حاصل کی گئی۔

Sunday, 14 June 2015

لائکس اور کمنٹس

خدا گواہ ہے ہم نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو اپنی تصویر فیس بک پہ اپ لوڈ کر کےسائن آوٹ کرتے ہیں،
دوست کے اکاونٹ سے لاگ ان ہوتے ہیں۔
 تصویر لائک کرتے ہیں۔
 کمنٹ کرتے ہیں
 پھر دوست کا سائن آوٹ کر کے
 اپنا لاگ ان کرتے ہیں
پھر کمنٹ لائک کرتے ہیں
اور ساتھ میں اک سمائلی کمنٹ کے جواب میں ڈال دیتے ہیں۔


Wednesday, 3 June 2015

A journey to IESCO Test.



A journey to IESCO Test.

آئیسکو ٹیسٹ کا سفر
آئیسکو (اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی )  نے مختلف شعبہ جات میں نوکریوں کا اعلان کیا اور اپلیکیشن فارم کے ساتھ 600 روپے کا ڈرافٹ اور رول نمبر سلپ بھیجنے کے لئے دو مہر لگے لفافے بھی مانگے۔ پاکستان کو بلکہ پوری دنیا کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں نوجوانوں کا بے روزگار ہونا ہے۔ پاکستان میں بھی نوجوان ہیں اور وافر مقدار میں بے روزگار ہیں لہذا بہت سوں نے اپنی درخواست مجع کروائی اوربڑی امید کے ساتھ جمع کروائی۔ درخواستیں پراسس ہوئیں اور امیدواروں کو رٹن ٹیسٹ کے لئے اسلام آباد بلا لیا گیا۔ راقم کے کئی دوست ٹیسٹ دینے اور اسلام آباد گھومنے کے لئے بہت خوش تھے اور بیتابی سے انتظار کرنے لگے۔  دوست اس لئے کہ راقم نے درخواست جمع نہیں کروائی تھی۔  ٹیسٹ پیٹرن بتا دیا گیا تھا جس کے مطابق پیپر
25 فیصد اسلامی معلومات
25 فیصد مطالعہ پاکستان
 25 فیصد جرنل نالج
25 فیصد فیلڈ سے متعلق
آنا تھا۔ دوستوں نے ٹیسٹ کی تیاری زورو شور سے شروع کر دی کیونکہ 75 فیصد ٹینکل فیلڈ سے متعلق نہیں تھا۔
ٹیسٹ کا دن آیا یار لوگ سکائی ویز پہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اس سے آگے انہی کئ زبانی سنتے ہیں۔

" ٹیسٹ سنٹر سپورٹس کمپلیکس، ایف 6 بنا تھا وہاں جا کے معلوم ہوا کہ انسانوں کا جم غفیر ہے جو میرے انتظار میں ہے۔ سارے پاکستان کے امیدوار اسی سنٹر میں بلائے گئے تھے۔ ٹیسٹ ٹائم 8 بجے کا تھا اور ٹیسٹ 9:30 پہ شروع ہوا۔ 60 سوالات پہ مشتمل سوالنامہ 60 منٹ میں حل کرنا تھا۔ بہت سارے سوالات تو میرے سمجھ کے اوپر سے گزر گئے۔ جیسا کہ
"فرانس ری پبلک کب بنا؟"
بھایا اس سوال کا ایک پاور کمپنی سے کیا تعلق ؟ جناب آپ ٹھیک کہ رہے ہیں یہ جرنل نالج پورشن میں سے تھا ایک ڈائیلاگ  جو میں کافی بولتا ہوں  "انا میرا جرنل نالج تے نئی پر تکا لا لیندا" بالکل فٹ آیا پورے سوالنامہ پہ۔ ٹیکنکل فیلڈ سے چند سوالات تھے جو بہت آسان تھے۔ لیکن سوالات حل کرنے کا طریقہ بہت غلط تھا۔ کسی کو کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ سب ایک دوسرے سے باقاعدہ ڈسکشن کرنے کے بعد ایک جواب پہ متفق ہو کر سوالنامہ پر کر رہے تھے۔ ٹیسٹ کے اختتام پہ مجھے ایک لڑکا ملا۔ اس سے سلام دعا ہوئی تو آواز بھرائی ہوئی تھئ۔ استفسار پہ معلوم ہوا کہ وہ سکھر سے ٹیسٹ دینے  22 گھنٹے کا سفر کر کے آیا ہے اور انظامی امور دیکھ کے لگتا ہے کہ سیٹیں پہلے سے بکی ہوئی ہیں ہمیں خانہ پوری کے لئے بلایا گیا ہے۔ میں تو نوکری کر رہا تھا اس لئے مجھے اتنا افسوس نہیں ہوا لیکن اسکی حالت دیکھ کے بہت دکھ ہوا۔
این ٹی ایس، جس کے خلاف فیس بل پہ میں احتجاج کرنے والوں میں ، میں  سب سے آگے ہوں اب مجھے مندرجہ ذیل باتوں کی وجہ سے  بہت اچھی لگی۔
1.      درخواست کے ساتھ لفافے نہیں مانگتی۔
2.      پوسٹل سروس اچھی استعمال کرتی ہے۔
3.      ٹیسٹ سنٹر تقریبا پورے پاکستان میں بنتے ہیں۔
4.      سیٹیں بکی بھی ہوں تو محسوس نہیں ہونے دیتے۔
اس ٹوئر میں جو باتیں پسند آئیں ان میں سب سے پہلے ، پاکستان بہت خوبصورت ہے۔ لاہور رہتے ہوئے اتنی ہریالی نہیں دیکھی جتنی اسلام آباد کی طرف دیکھی۔ ن لیگ سے مخالفت کے باوجود موٹر وے پہ سفر اچھا لگا۔ پبلک سروس استعمال کرتے ہوئے میرے ساتھ میں اک لڑکی بیٹھ گئی جسکی قربت میں نے بہت محسوس کی۔ آپ اسے میری فرسٹیشن سمجھیں کا کچھ بھی۔ محسوس کی تو بول دی اب آپکی مرضی اسے تحریر کریں یا نہ کریں۔ آپ منٹو پڑہ سکتے ہیں ہم محسوس بھی نہیں کر سکتے؟ (یہ انکا گلہ تھا مجھ سے )۔"

میں نے ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ ان سے روداد سفر اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی اجازت مانگی اور اس فرسٹیشن کا حل بھی پوچھا تو انکا جواب تھا آپ اس سوال کو ڈسکشن کے لئے چھوڑ دیں۔

Monday, 1 June 2015

اب فیس بک پر اینیمیٹڈ تصاویر پوسٹ کریں

اب فیس بک پر اینیمیٹڈ تصاویر پوسٹ کریں

 

عام طور پر آپ نے جی آئی ایف یا اینمیٹڈ تصاویر تو دیکھی ہوں گی تاہم فیس بک پر انہیں شیئر کرنے کی حسرت دل میں رہ جاتی ہوگی۔
تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ سماجی رابطے کی اس مقبول ترین ویب سائٹ نے آخر کار اپنے صارفین کو جی آئی ایف تصاویر شیئر کرنے کی اجازت دے ہی دی ہے۔
فیس بک نے اس حوالے سے خاموشی سے اپنے سسٹم میں ایک اپ ڈیٹ کردی ہے جس کے ذریعے آپ اپنے نیوز فیڈ پر جی آئی ایف تصاویر چلاسکتے ہیں۔
بس اپنے حرکت کرتی کسی بھی پسندیدہ تصویر کا یو آر ایل کاپی کرکے اپنے اسٹیٹس اپ ڈیٹ بار پر پیسٹ کرکے پوسٹ کردیں اور پھر جادو دیکھیں۔

 

مکمل تحریر کے لئے ادہر کلک کریں۔

 

جلد بوڑھا کرنے والی عادتیں


ایسی چند عادات کے بارے میں جانئے جو آپ کو جلد بوڑھا کرسکتی ہیں۔
انکی فہرس یہ ہے اور مزید جاننے کے لیے نیچے لنک پہ کلک کریں۔

  1. ایک وقت میں بہت سارے کام یا ملٹی ٹاسک



    مٹھاس کا بہت زیادہ استعمال


    میٹھی اشیاءکس کو پسند نہیں ہوتی مگر یہ جسمانی وزن میں اضافے کے ساتھ ساتھ آپ کے چہرے کی عمر بھی بڑھا دیتی ہیں۔ شوگر یا چینی زیادہ استعمال کی وجہ سے ہمارے خلیات سے منسلک ہوجاتی ہے اور اس کے نتیجے میں چہرے سے سرخی غائب ہوجاتی ہے اور آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے ابھر آتے ہیں۔
    اسی طرح جھریاں اور ہلکی لکیریں بھی چہرے کو بوڑھا بنا دیتی ہیں۔ تو میٹھی اشیاءسے کچھ گریز آپ کے چہرے کی چمک برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

    کم نیند


    کم سونا نہ صرف آنکھوں کے گرد بدنما حلقوں کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ زندگی کی مدت بھی کم کردیتا ہے۔ روزانہ سات گھنٹے سے کم نیند لینے کی عادت دن بھر کم توانائی، ذہنی سستی، توجہ مرکوز رکھنے میں مشکلات یا موٹاپے وغیرہ کا سبب بن جاتی ہے۔

    بہت زیادہ ٹی وی دیکھنا


    آج کل لوگوں کا کافی وقت ٹی وی پروگرامز دیکھتے ہوئے گزرتا ہے مگر برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسین کی ایک تحقیق کے مطابق ایک گھنٹے تک لگاتار ٹی وی دیکھنا بائیس منٹ کی زندگی کم کردیتا ہے۔ اسی طرح جو افراد روزانہ اوسطاً چھ گھنٹے ٹی دیکھتے ہیں وہ اس عادت سے دور رہنے والے افراد کے مقابلے میں پانچ سال کم زندہ رہ پاتے ہیں۔
    اس کی وجہ ہے کہ ٹی وی دیکھنے کیلئے آپ زیادہ تر بیٹھے رہتے ہیں، جس کے باعث جسم شوگر کو ہمارے خلیات میں جمع کرنا شروع کردیتا ہے جس سے موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    اس سے بچنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اگر آپ ٹی وی دیکھ رہے ہو تو ہر تیس منٹ بعد کچھ دیر کیلئے اٹھ کر چہل قدمی بھی کریں۔

    زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا


    دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے یا سست طرز زندگی کے عادی افراد میں موٹاپا کا خطرہ تو ہوتا ہی ہے اس کے ساتھ ساتھ گردوں اور دل کے امراض کیساتھ ساتھ کینسر کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ اگر خود کو صحت مند رکھنا ہو تو روزانہ ورزش کی عادت کو پانان سب سے زیادہ فائدہ مند ہوگا۔

    بہت زیادہ میک اپ کا استعمال


    چہرے پر بہت زیادہ میک اپ کا استعمال بڑھاپے کی جانب آپ کا سفر بھی تیز کردے گا۔ بہت زیادہ میک اپ خاص طور پر تیل والی مصنوعات جلد میں موجود ننھے سوراخوں یا مساموں کو بند کرکے مسائل کا سبب بن جاتی ہیں۔
    اسی طرح جلدی مصنوعات کا الکحل اور کیمیکل سے بنی خوشبو کے ساتھ استعمال سے جلد سے قدرتی نمی ختم ہوجاتی ہے اور وہ خشک ہوجاتی ہے جس سے قبل از وقت جھریاں ابھر آتی ہیں۔  

    نیند کے دوران چہرہ تکیے پر رکھنا


    پیٹ کے بل یا ایک سائیڈ پر لیٹ کر سونے سے آپ کا چہرہ تکیے میں دب کر رہ جاتا ہے اور جھریاں ابھرنے کیساتھ بڑھاپے کا سبب بنتا ہے۔
    ایک تحقیق کے مطابق چہرہ مسلسل تکیے میں دبا رہے تو وہ اندر سے کمزور ہوجاتا ہے اور موجودہ عمر کے مطابق نظر نہیں آتا۔ اگر ایسا مسلسل کیا جائے تو جلد ہموار نہیں رہتی۔

    اسٹرا کے ذریعے مشروب پینا


    کسی مشروب کو اسٹرا کے ذریعے پی کر آپ دانتوں کو تو داغ لگنے سے بچاسکتے ہیں مگر ہونٹ سکڑنے کا یہ عمل آنکھوں اور چہرے کے ارگرد جھریاں پڑنے کا سبب ضرور بن جاتا ہے۔
    ایسا اس وقت بھی ہوتا ہے جب سیگریٹ نوشی کی جائے۔
    اپنی خوراک سے چربی کا استعمال مکمل ختم کردینا۔ خوراک میں کچھ حد تک چربی کا استعمال شخصیت میں جوانی کے اظہار اور احساس کیلئے ضروری ہوتا ہے۔
    اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے بھرپور مچھلی اور کچھ نٹس جیسے اخروٹ وغیرہ جلد کو نرم و ملائم اور جھریوں سے بچاتے ہیں، جبکہ دل اور دماغ کی صحت کو بھی بہتر بناتے ہیں۔

    جھک کے بیٹھنا


    اپنے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کے کی بورڈ کے سامنے گھنٹوں کمر جھکا کر بیٹھے رہنے سے آپ کی ریڑھ کی ہڈی بدنما کبڑے پن کی شکل میں ڈحل جاتی ہے۔
    قدرتی طور پر یہ ہڈی متوازن ایس شکل کے جھکاﺅ کی حامل ہوتی ہے تاکہ ہم چلنے پھرنے میں مشکل نہ ہو۔
    مگر گھنٹوں تک جھکے رہنے سے قدرتی شکل تبدیل ہوجاتی ہے، جس سے پٹھے اور ہڈیاں غیرمعمولی دباﺅ کا شکار ہوکر قبل از وقت بوڑھوں کی طرح چلنے پھرنے پر مجبور کردیتی ہیں۔
    یہ تحریر یہاں سے لی گئی ہے۔

بچپن کا رٹہ


اب تک یہی بتایا جاتا رہا ہے کہ کسی چیز کو رٹا نہیں لگانا چاہیے۔ رٹا دیرپا نہیں ہوتا۔ امتحانات میں بھول جاتاہے۔ ایف اسی سی والو، رزسٹر کی کلر کوڈنگ کس کانسپٹ سے یاد کی تھی؟ اگر آج تک کلر کوڈنگ یاد ہے ، 12 کا پہاڑہ بھی یاد ہے تو دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیں رٹا مارا تھا کہ نہیں؟ اگر رٹا مارا تھا تو لائک کریں اور شئر کریں، شیطان کی نہ سنیں۔  :)

Thursday, 28 May 2015

قرآن کے بارے میں سوال و جواب

سوال201:قرآن مجید کی کس آیت میں یہود و نصاری اور کافروں سے دوستی لگانا حرام قرار دیا گیا ہے؟
جواب: ارشاد باری تعالٰی ہے{یاایھا الذی امنوا لا تتخذوا الیھود و النصاری اولیاء بعض ومن یتو لھم منکم فانہ منھم ان اللہ لا یھدی القوم الظالمین}[اے ایمان والو! یہود و نصاری کو اپنا دوست نہ بناؤ یہ آپس میں ہی ایک دوسرے کےدوست ہیں اور تم مین سے جو ان کو دوست بنائے گا وہ ان ہی میں سے ہو گا بلا شبہ اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا] ( سورہ مائدہ آیت: 51)
دوسری آیت ہے{یا ایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء تلقون الیھم بالمودۃ و قد کفروا بما جاء کم من الحق یخرجون الرسول وایاکم ان تومنوا باللہ ربکم}[اے ایمان والوں! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم تو دوستی سے ان کی طرف پیغام بھیجتے ہواور حالانکہ وہ اس حق کے ساتھ جو تمہارے پاس آ چکا ہے کفر کرتے ہیں وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خود تمہیں بھی محض اس وجہ سے جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو ] (سورہ ممتحنہ آیت: 1 ) اس بارے میں اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

سوال202:قرآن مجید کی کس آیت میں اللہ تعالٰی نے درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا ہے؟
جواب: ارشاد باری ہے{ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی یاایھا الذی امنو اصلو اعلیہ وسلموا تسلیما}[اللہ تعالٰی اورس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں اے ایمان والو ! تم (بھی) ان پر درود بھیجواور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو ] ( سورہ احزاب آیت:56)

سوال203:کیا دعوت تبلیغ کی وجہ سے غیر مسلموں کو ترجمہ قرآن دیا جا سکتا ہے؟
جواب:جی ہاں دعوت و تبلیغ کی غرض سے ترجمہ قرآن دیا جا سکتا ہے، فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن جبرین حفظہ اللہ سے پوچھا گیا، کیا غیر مسلم ترجمہ و تفسیر قرآن چھو سکتا ہے؟ شیخ نے جوابا فرمایا اگر غیر مسلم قرآن کے معنی اور مفہوم کو جاننا، سمجھنا اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہو اور اس کی ہدایت کی امید ہو تو اسے ترجمہ و تفسیر دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہےگرچہ اس میں ترجمہ و تفسیر کے ساتھ قرآنی آیات بھی تحریر ہوں، دیکھئے (ابو انس علی بن حسین کی کتاب فتوی و احکام الی الداخلین فی الاسلام)
آج چونکہ غیر مسلموں میں قرآن فہمی کا ذوق و شوق بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے اس لئے قرآن کے ترجمہ کو مسلمانوں اور غیر مسلموں میں زیادہ سے زیادہ پھیلانا چاہئے تاکہ قرآن کا پیغام گھر گھر پہنچے اور غافل لوگ ہوشمیں آئیں نیز غیر مسلموں پر اللہ کی حجت قائم ہو۔

سوال204:بعض لوگون کا خیال ہے کہ عوام قرآن نہیں سمجھ سکتے، قرآن سمجھنا صرف علماء کا کام ہے عوام کے لئے بزرگوں کی کتابیں پڑھ لینا کافی ہے تو کیا واقعتا قرآن صرف علما کے سمجھنے کے لئے ہے؟
جواب:قرآن صرف علماؤں کے سمجھنے کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ تمام انسانوں کے لئے کتاب ہدایت ہے اور اس کا تقاضا ہے کے لوگ اس کا مطالعہ کریں اور اسے سمجھیں کیونکہ قرآن تو اپنے نزول کا مقصد ہی {لعلکم تعقلون}[تاکہ تم سمجھو] بتلاتا ہے ( سورہ یوسف آیت:2)قرآن کہتا ہے{ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مدکر}[اور ہم نے قرآن کو آسان بنایا ہے نصیحت حاصل کرنے کے لئے تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا](سورۃ القمر آیت:17) اس لئے یہ خیال کرنا کہ قرآن کو صرف علما ہی سمجھ سکتے ہیں سراسر غلط اور بے بنیاد ہے اور یہ در حقیقت لوگوں کو قرآن سے محروم کرنے کی ایک سازش ہے۔ ( ماخوذ من کتاب کیا قرآن کو سمجھ کر پڑھنا ضروری نہیں؟ للشیخ شمس پیرزادہ)

سوال205:کتنے دنون میں قرآن ختم کرنا بہتر ہے؟
جواب:قرآن ختم کرنے کے سلسلہ میں سلف کی عادتیں مختلف رہی ہیں بعض دو ماہ میں قرآن ختم کیا کرتے تھے اور بعض ایک ماہ میں، بعض دس دنوں میں بعض سات دنوں میںقرآن ختم کرنے کا عمل اکثر سلف کا رہا ہے۔ (علامہ نودی کی کتاب الاذکار ص 153)
بعض سے تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنا اور بعض سے ایک دن اور ایک رات میں بھی قرآن ختم کرنا ثابت ہے، اس سلسلہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ وعنہما کا واقعہ مشہور ہے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہےکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ تم روزانہ روزہ رکھتے ہو اور ایک رات میں قرآن پڑھ لیتے ہو ، میں نے کہا یا رسول اللہ یہ سچ ہے اور اس سے مقصول صرف اور صرف نیکی کا حصول ہے آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے فرمایا داؤد ولیہ السلام والا روزہ رکھو بیشک وہ بندوں میں بڑے عبادت گزار تھےاور مہینہ بھر میں قرآن ختم کیا کرو، میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تو اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ نے فرمایاتو پھر دس روز میں ختم کر لیا کرو، میں نے کہا کہ اے اللہ کے نبی ! میں تو اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر ایک ہفتے میں ختم کر لیا کرو اور اس سے آگے نہ بڑھو،
اس حدیث سے بعض لوگوں نے استدلال کرتے ہوئے قرآن ختم کرنے کی کم از کم مدت ایک ہفتہ بیان کی ہے، اور بعض لوگوں نے قرآن ختم کرنے کی کم سے کم مدت تین روز بیان کی ہے اور ان لوگوں نے عبداللہ بن عمر کی اس حدیث سے دلیل پکڑی ہے جس کو امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے ابواب القراء ات عن رسول صلہ اللہ علیہ وسلم کے تحت بیان کیا ہے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا {لم یفقہ من قرا القرآن فی اقل من ثلاث}[جس نے تین دن سے کم میں قرآن کو ختم کیا اس نے قرآن کو نہیں سمجھا] ( دیکھئے علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب سلسلہ الصحیحہ : 1513)
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ آدمی کی طاقت اور دلچسپی پر موقوف ہے، اس سلسلہ میں راجح بات وہی ہے جو علامہ نوعی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ کم از کم سات دن میں قرآن ختم کرنا چاہیے۔

سوال206: بے وضو قرآن چھونا کیسا ہے؟
جواب:اس سلسلہ میں علما کی رائے مختلف ہے بعض کی رائے یہ ہے کہ بے وضو قرآن نہ چھوا جائے اور ان کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے {لا یمسہ الا المطھرون}[قرآن کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں] ( سورہ واقعہ آیت :79) اور کہتے ہیں کہ اس آیت سے مرادجنابت اور حدث سے پاک لوگ ہیں اس لئے بے وضو قرآن چھونا منع ہے ان حضرات نے عمرو بن حزم کی اس حدیث سے بھی یہ دلیل لی ہے جسے امام مالک نے روایت کیا ہے {لا یمس المصحف الا طاھر}قرآن کو صرف پاک لوگ چھوتے ہیں ، لیکن یہ حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہے۔
بعض علما کی رائے یہ ہے کہ بے وضو قرآن چھو سکتا ہے اور کہتے ہیں کہ اس کی ممانعت کی کوئی صحیح اور صریح دلیل نہیں ہے،( نیز امام ابن حزم رحمۃ اللہ نے اپنی کتاب المحلی میں، امام ابن القیم رحمۃ اللہ نے البیان فی اقسام القرآن میں ، اور امام شوکانی رحمۃ اللہ نے نیل الاعطار میں اسی کو راجح قرار دیا ہے، عبداللہ بن عباس، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ شعبی اور امام ابو حنیفہ وغیرہم کی یہی رائے ہے)

سوال207:قرآنی آیتوں اور سورتوں کو لکھ کر گھر کی دیواروں، دکانوں، گاڑیوں اور چوراہوں پر لٹکانا کیسا ہے؟
جواب:افتاء کی دائمی کمیٹی کا فتوی ہے کہ قرآنی آیتوں اور سورتوں کو لکھ کر گھر کی دیواروں، دکانوں، گاڑیوں اور چوراہوں پر لٹکانا درج ذیل اسباب کی بنا پر منع ہے:
(1) قرآنی آیات اور سورتوں کے لٹکانے میں نزول قرآن کے مقاصد سے انحراف ہے۔
(2)یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے عمل کے سراسر خلاف ہے۔
(3) اللہ نے قرآن کریم پڑھنے کے لئے نازل کیا ہے نہ کہ تجارت کو فروغ دینے کے لئے۔
(4) اس میں آیات قرآنی کی بے حرمتی اور توہین ہے۔
(5)ایسا کرنے سے شرک کا دروازہ کھلنے کے ساتھ ساتھ آیات قرآنی پر مشتمل تعویذ و گنڈے کے جواز کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
Powered by Blogger.

My Blog List

Ads Banner

Followers

Site Info