Monday, 15 June 2015

رمضان المبارک 2015 کی آمد آمد ہے


رمضان المبارک 2015 کی آمد آمد ہے۔ لوگ تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کچھ لوگ سموسے، پکوڑے اور قیمہ والے رول بنانے میں مصروف ہیں تو کچھ لوگ بھوکا پیاسا رہنے کی پریکٹس کر رہے ہیں۔ آپ کس چیز کی پریکٹس کر رہے ہیں؟
یہ تحریر اس بلاگ سے حاصل کی گئی۔

Sunday, 14 June 2015

لائکس اور کمنٹس

خدا گواہ ہے ہم نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو اپنی تصویر فیس بک پہ اپ لوڈ کر کےسائن آوٹ کرتے ہیں،
دوست کے اکاونٹ سے لاگ ان ہوتے ہیں۔
 تصویر لائک کرتے ہیں۔
 کمنٹ کرتے ہیں
 پھر دوست کا سائن آوٹ کر کے
 اپنا لاگ ان کرتے ہیں
پھر کمنٹ لائک کرتے ہیں
اور ساتھ میں اک سمائلی کمنٹ کے جواب میں ڈال دیتے ہیں۔


Wednesday, 3 June 2015

A journey to IESCO Test.



A journey to IESCO Test.

آئیسکو ٹیسٹ کا سفر
آئیسکو (اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی )  نے مختلف شعبہ جات میں نوکریوں کا اعلان کیا اور اپلیکیشن فارم کے ساتھ 600 روپے کا ڈرافٹ اور رول نمبر سلپ بھیجنے کے لئے دو مہر لگے لفافے بھی مانگے۔ پاکستان کو بلکہ پوری دنیا کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں نوجوانوں کا بے روزگار ہونا ہے۔ پاکستان میں بھی نوجوان ہیں اور وافر مقدار میں بے روزگار ہیں لہذا بہت سوں نے اپنی درخواست مجع کروائی اوربڑی امید کے ساتھ جمع کروائی۔ درخواستیں پراسس ہوئیں اور امیدواروں کو رٹن ٹیسٹ کے لئے اسلام آباد بلا لیا گیا۔ راقم کے کئی دوست ٹیسٹ دینے اور اسلام آباد گھومنے کے لئے بہت خوش تھے اور بیتابی سے انتظار کرنے لگے۔  دوست اس لئے کہ راقم نے درخواست جمع نہیں کروائی تھی۔  ٹیسٹ پیٹرن بتا دیا گیا تھا جس کے مطابق پیپر
25 فیصد اسلامی معلومات
25 فیصد مطالعہ پاکستان
 25 فیصد جرنل نالج
25 فیصد فیلڈ سے متعلق
آنا تھا۔ دوستوں نے ٹیسٹ کی تیاری زورو شور سے شروع کر دی کیونکہ 75 فیصد ٹینکل فیلڈ سے متعلق نہیں تھا۔
ٹیسٹ کا دن آیا یار لوگ سکائی ویز پہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اس سے آگے انہی کئ زبانی سنتے ہیں۔

" ٹیسٹ سنٹر سپورٹس کمپلیکس، ایف 6 بنا تھا وہاں جا کے معلوم ہوا کہ انسانوں کا جم غفیر ہے جو میرے انتظار میں ہے۔ سارے پاکستان کے امیدوار اسی سنٹر میں بلائے گئے تھے۔ ٹیسٹ ٹائم 8 بجے کا تھا اور ٹیسٹ 9:30 پہ شروع ہوا۔ 60 سوالات پہ مشتمل سوالنامہ 60 منٹ میں حل کرنا تھا۔ بہت سارے سوالات تو میرے سمجھ کے اوپر سے گزر گئے۔ جیسا کہ
"فرانس ری پبلک کب بنا؟"
بھایا اس سوال کا ایک پاور کمپنی سے کیا تعلق ؟ جناب آپ ٹھیک کہ رہے ہیں یہ جرنل نالج پورشن میں سے تھا ایک ڈائیلاگ  جو میں کافی بولتا ہوں  "انا میرا جرنل نالج تے نئی پر تکا لا لیندا" بالکل فٹ آیا پورے سوالنامہ پہ۔ ٹیکنکل فیلڈ سے چند سوالات تھے جو بہت آسان تھے۔ لیکن سوالات حل کرنے کا طریقہ بہت غلط تھا۔ کسی کو کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ سب ایک دوسرے سے باقاعدہ ڈسکشن کرنے کے بعد ایک جواب پہ متفق ہو کر سوالنامہ پر کر رہے تھے۔ ٹیسٹ کے اختتام پہ مجھے ایک لڑکا ملا۔ اس سے سلام دعا ہوئی تو آواز بھرائی ہوئی تھئ۔ استفسار پہ معلوم ہوا کہ وہ سکھر سے ٹیسٹ دینے  22 گھنٹے کا سفر کر کے آیا ہے اور انظامی امور دیکھ کے لگتا ہے کہ سیٹیں پہلے سے بکی ہوئی ہیں ہمیں خانہ پوری کے لئے بلایا گیا ہے۔ میں تو نوکری کر رہا تھا اس لئے مجھے اتنا افسوس نہیں ہوا لیکن اسکی حالت دیکھ کے بہت دکھ ہوا۔
این ٹی ایس، جس کے خلاف فیس بل پہ میں احتجاج کرنے والوں میں ، میں  سب سے آگے ہوں اب مجھے مندرجہ ذیل باتوں کی وجہ سے  بہت اچھی لگی۔
1.      درخواست کے ساتھ لفافے نہیں مانگتی۔
2.      پوسٹل سروس اچھی استعمال کرتی ہے۔
3.      ٹیسٹ سنٹر تقریبا پورے پاکستان میں بنتے ہیں۔
4.      سیٹیں بکی بھی ہوں تو محسوس نہیں ہونے دیتے۔
اس ٹوئر میں جو باتیں پسند آئیں ان میں سب سے پہلے ، پاکستان بہت خوبصورت ہے۔ لاہور رہتے ہوئے اتنی ہریالی نہیں دیکھی جتنی اسلام آباد کی طرف دیکھی۔ ن لیگ سے مخالفت کے باوجود موٹر وے پہ سفر اچھا لگا۔ پبلک سروس استعمال کرتے ہوئے میرے ساتھ میں اک لڑکی بیٹھ گئی جسکی قربت میں نے بہت محسوس کی۔ آپ اسے میری فرسٹیشن سمجھیں کا کچھ بھی۔ محسوس کی تو بول دی اب آپکی مرضی اسے تحریر کریں یا نہ کریں۔ آپ منٹو پڑہ سکتے ہیں ہم محسوس بھی نہیں کر سکتے؟ (یہ انکا گلہ تھا مجھ سے )۔"

میں نے ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ ان سے روداد سفر اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی اجازت مانگی اور اس فرسٹیشن کا حل بھی پوچھا تو انکا جواب تھا آپ اس سوال کو ڈسکشن کے لئے چھوڑ دیں۔

Monday, 1 June 2015

اب فیس بک پر اینیمیٹڈ تصاویر پوسٹ کریں

اب فیس بک پر اینیمیٹڈ تصاویر پوسٹ کریں

 

عام طور پر آپ نے جی آئی ایف یا اینمیٹڈ تصاویر تو دیکھی ہوں گی تاہم فیس بک پر انہیں شیئر کرنے کی حسرت دل میں رہ جاتی ہوگی۔
تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ سماجی رابطے کی اس مقبول ترین ویب سائٹ نے آخر کار اپنے صارفین کو جی آئی ایف تصاویر شیئر کرنے کی اجازت دے ہی دی ہے۔
فیس بک نے اس حوالے سے خاموشی سے اپنے سسٹم میں ایک اپ ڈیٹ کردی ہے جس کے ذریعے آپ اپنے نیوز فیڈ پر جی آئی ایف تصاویر چلاسکتے ہیں۔
بس اپنے حرکت کرتی کسی بھی پسندیدہ تصویر کا یو آر ایل کاپی کرکے اپنے اسٹیٹس اپ ڈیٹ بار پر پیسٹ کرکے پوسٹ کردیں اور پھر جادو دیکھیں۔

 

مکمل تحریر کے لئے ادہر کلک کریں۔

 

جلد بوڑھا کرنے والی عادتیں


ایسی چند عادات کے بارے میں جانئے جو آپ کو جلد بوڑھا کرسکتی ہیں۔
انکی فہرس یہ ہے اور مزید جاننے کے لیے نیچے لنک پہ کلک کریں۔

  1. ایک وقت میں بہت سارے کام یا ملٹی ٹاسک



    مٹھاس کا بہت زیادہ استعمال


    میٹھی اشیاءکس کو پسند نہیں ہوتی مگر یہ جسمانی وزن میں اضافے کے ساتھ ساتھ آپ کے چہرے کی عمر بھی بڑھا دیتی ہیں۔ شوگر یا چینی زیادہ استعمال کی وجہ سے ہمارے خلیات سے منسلک ہوجاتی ہے اور اس کے نتیجے میں چہرے سے سرخی غائب ہوجاتی ہے اور آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے ابھر آتے ہیں۔
    اسی طرح جھریاں اور ہلکی لکیریں بھی چہرے کو بوڑھا بنا دیتی ہیں۔ تو میٹھی اشیاءسے کچھ گریز آپ کے چہرے کی چمک برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

    کم نیند


    کم سونا نہ صرف آنکھوں کے گرد بدنما حلقوں کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ زندگی کی مدت بھی کم کردیتا ہے۔ روزانہ سات گھنٹے سے کم نیند لینے کی عادت دن بھر کم توانائی، ذہنی سستی، توجہ مرکوز رکھنے میں مشکلات یا موٹاپے وغیرہ کا سبب بن جاتی ہے۔

    بہت زیادہ ٹی وی دیکھنا


    آج کل لوگوں کا کافی وقت ٹی وی پروگرامز دیکھتے ہوئے گزرتا ہے مگر برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسین کی ایک تحقیق کے مطابق ایک گھنٹے تک لگاتار ٹی وی دیکھنا بائیس منٹ کی زندگی کم کردیتا ہے۔ اسی طرح جو افراد روزانہ اوسطاً چھ گھنٹے ٹی دیکھتے ہیں وہ اس عادت سے دور رہنے والے افراد کے مقابلے میں پانچ سال کم زندہ رہ پاتے ہیں۔
    اس کی وجہ ہے کہ ٹی وی دیکھنے کیلئے آپ زیادہ تر بیٹھے رہتے ہیں، جس کے باعث جسم شوگر کو ہمارے خلیات میں جمع کرنا شروع کردیتا ہے جس سے موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    اس سے بچنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اگر آپ ٹی وی دیکھ رہے ہو تو ہر تیس منٹ بعد کچھ دیر کیلئے اٹھ کر چہل قدمی بھی کریں۔

    زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا


    دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے یا سست طرز زندگی کے عادی افراد میں موٹاپا کا خطرہ تو ہوتا ہی ہے اس کے ساتھ ساتھ گردوں اور دل کے امراض کیساتھ ساتھ کینسر کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ اگر خود کو صحت مند رکھنا ہو تو روزانہ ورزش کی عادت کو پانان سب سے زیادہ فائدہ مند ہوگا۔

    بہت زیادہ میک اپ کا استعمال


    چہرے پر بہت زیادہ میک اپ کا استعمال بڑھاپے کی جانب آپ کا سفر بھی تیز کردے گا۔ بہت زیادہ میک اپ خاص طور پر تیل والی مصنوعات جلد میں موجود ننھے سوراخوں یا مساموں کو بند کرکے مسائل کا سبب بن جاتی ہیں۔
    اسی طرح جلدی مصنوعات کا الکحل اور کیمیکل سے بنی خوشبو کے ساتھ استعمال سے جلد سے قدرتی نمی ختم ہوجاتی ہے اور وہ خشک ہوجاتی ہے جس سے قبل از وقت جھریاں ابھر آتی ہیں۔  

    نیند کے دوران چہرہ تکیے پر رکھنا


    پیٹ کے بل یا ایک سائیڈ پر لیٹ کر سونے سے آپ کا چہرہ تکیے میں دب کر رہ جاتا ہے اور جھریاں ابھرنے کیساتھ بڑھاپے کا سبب بنتا ہے۔
    ایک تحقیق کے مطابق چہرہ مسلسل تکیے میں دبا رہے تو وہ اندر سے کمزور ہوجاتا ہے اور موجودہ عمر کے مطابق نظر نہیں آتا۔ اگر ایسا مسلسل کیا جائے تو جلد ہموار نہیں رہتی۔

    اسٹرا کے ذریعے مشروب پینا


    کسی مشروب کو اسٹرا کے ذریعے پی کر آپ دانتوں کو تو داغ لگنے سے بچاسکتے ہیں مگر ہونٹ سکڑنے کا یہ عمل آنکھوں اور چہرے کے ارگرد جھریاں پڑنے کا سبب ضرور بن جاتا ہے۔
    ایسا اس وقت بھی ہوتا ہے جب سیگریٹ نوشی کی جائے۔
    اپنی خوراک سے چربی کا استعمال مکمل ختم کردینا۔ خوراک میں کچھ حد تک چربی کا استعمال شخصیت میں جوانی کے اظہار اور احساس کیلئے ضروری ہوتا ہے۔
    اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے بھرپور مچھلی اور کچھ نٹس جیسے اخروٹ وغیرہ جلد کو نرم و ملائم اور جھریوں سے بچاتے ہیں، جبکہ دل اور دماغ کی صحت کو بھی بہتر بناتے ہیں۔

    جھک کے بیٹھنا


    اپنے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کے کی بورڈ کے سامنے گھنٹوں کمر جھکا کر بیٹھے رہنے سے آپ کی ریڑھ کی ہڈی بدنما کبڑے پن کی شکل میں ڈحل جاتی ہے۔
    قدرتی طور پر یہ ہڈی متوازن ایس شکل کے جھکاﺅ کی حامل ہوتی ہے تاکہ ہم چلنے پھرنے میں مشکل نہ ہو۔
    مگر گھنٹوں تک جھکے رہنے سے قدرتی شکل تبدیل ہوجاتی ہے، جس سے پٹھے اور ہڈیاں غیرمعمولی دباﺅ کا شکار ہوکر قبل از وقت بوڑھوں کی طرح چلنے پھرنے پر مجبور کردیتی ہیں۔
    یہ تحریر یہاں سے لی گئی ہے۔

بچپن کا رٹہ


اب تک یہی بتایا جاتا رہا ہے کہ کسی چیز کو رٹا نہیں لگانا چاہیے۔ رٹا دیرپا نہیں ہوتا۔ امتحانات میں بھول جاتاہے۔ ایف اسی سی والو، رزسٹر کی کلر کوڈنگ کس کانسپٹ سے یاد کی تھی؟ اگر آج تک کلر کوڈنگ یاد ہے ، 12 کا پہاڑہ بھی یاد ہے تو دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیں رٹا مارا تھا کہ نہیں؟ اگر رٹا مارا تھا تو لائک کریں اور شئر کریں، شیطان کی نہ سنیں۔  :)
Powered by Blogger.

My Blog List

Ads Banner

Followers

Site Info