Wednesday, 3 June 2015

A journey to IESCO Test.



A journey to IESCO Test.

آئیسکو ٹیسٹ کا سفر
آئیسکو (اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی )  نے مختلف شعبہ جات میں نوکریوں کا اعلان کیا اور اپلیکیشن فارم کے ساتھ 600 روپے کا ڈرافٹ اور رول نمبر سلپ بھیجنے کے لئے دو مہر لگے لفافے بھی مانگے۔ پاکستان کو بلکہ پوری دنیا کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں نوجوانوں کا بے روزگار ہونا ہے۔ پاکستان میں بھی نوجوان ہیں اور وافر مقدار میں بے روزگار ہیں لہذا بہت سوں نے اپنی درخواست مجع کروائی اوربڑی امید کے ساتھ جمع کروائی۔ درخواستیں پراسس ہوئیں اور امیدواروں کو رٹن ٹیسٹ کے لئے اسلام آباد بلا لیا گیا۔ راقم کے کئی دوست ٹیسٹ دینے اور اسلام آباد گھومنے کے لئے بہت خوش تھے اور بیتابی سے انتظار کرنے لگے۔  دوست اس لئے کہ راقم نے درخواست جمع نہیں کروائی تھی۔  ٹیسٹ پیٹرن بتا دیا گیا تھا جس کے مطابق پیپر
25 فیصد اسلامی معلومات
25 فیصد مطالعہ پاکستان
 25 فیصد جرنل نالج
25 فیصد فیلڈ سے متعلق
آنا تھا۔ دوستوں نے ٹیسٹ کی تیاری زورو شور سے شروع کر دی کیونکہ 75 فیصد ٹینکل فیلڈ سے متعلق نہیں تھا۔
ٹیسٹ کا دن آیا یار لوگ سکائی ویز پہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اس سے آگے انہی کئ زبانی سنتے ہیں۔

" ٹیسٹ سنٹر سپورٹس کمپلیکس، ایف 6 بنا تھا وہاں جا کے معلوم ہوا کہ انسانوں کا جم غفیر ہے جو میرے انتظار میں ہے۔ سارے پاکستان کے امیدوار اسی سنٹر میں بلائے گئے تھے۔ ٹیسٹ ٹائم 8 بجے کا تھا اور ٹیسٹ 9:30 پہ شروع ہوا۔ 60 سوالات پہ مشتمل سوالنامہ 60 منٹ میں حل کرنا تھا۔ بہت سارے سوالات تو میرے سمجھ کے اوپر سے گزر گئے۔ جیسا کہ
"فرانس ری پبلک کب بنا؟"
بھایا اس سوال کا ایک پاور کمپنی سے کیا تعلق ؟ جناب آپ ٹھیک کہ رہے ہیں یہ جرنل نالج پورشن میں سے تھا ایک ڈائیلاگ  جو میں کافی بولتا ہوں  "انا میرا جرنل نالج تے نئی پر تکا لا لیندا" بالکل فٹ آیا پورے سوالنامہ پہ۔ ٹیکنکل فیلڈ سے چند سوالات تھے جو بہت آسان تھے۔ لیکن سوالات حل کرنے کا طریقہ بہت غلط تھا۔ کسی کو کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ سب ایک دوسرے سے باقاعدہ ڈسکشن کرنے کے بعد ایک جواب پہ متفق ہو کر سوالنامہ پر کر رہے تھے۔ ٹیسٹ کے اختتام پہ مجھے ایک لڑکا ملا۔ اس سے سلام دعا ہوئی تو آواز بھرائی ہوئی تھئ۔ استفسار پہ معلوم ہوا کہ وہ سکھر سے ٹیسٹ دینے  22 گھنٹے کا سفر کر کے آیا ہے اور انظامی امور دیکھ کے لگتا ہے کہ سیٹیں پہلے سے بکی ہوئی ہیں ہمیں خانہ پوری کے لئے بلایا گیا ہے۔ میں تو نوکری کر رہا تھا اس لئے مجھے اتنا افسوس نہیں ہوا لیکن اسکی حالت دیکھ کے بہت دکھ ہوا۔
این ٹی ایس، جس کے خلاف فیس بل پہ میں احتجاج کرنے والوں میں ، میں  سب سے آگے ہوں اب مجھے مندرجہ ذیل باتوں کی وجہ سے  بہت اچھی لگی۔
1.      درخواست کے ساتھ لفافے نہیں مانگتی۔
2.      پوسٹل سروس اچھی استعمال کرتی ہے۔
3.      ٹیسٹ سنٹر تقریبا پورے پاکستان میں بنتے ہیں۔
4.      سیٹیں بکی بھی ہوں تو محسوس نہیں ہونے دیتے۔
اس ٹوئر میں جو باتیں پسند آئیں ان میں سب سے پہلے ، پاکستان بہت خوبصورت ہے۔ لاہور رہتے ہوئے اتنی ہریالی نہیں دیکھی جتنی اسلام آباد کی طرف دیکھی۔ ن لیگ سے مخالفت کے باوجود موٹر وے پہ سفر اچھا لگا۔ پبلک سروس استعمال کرتے ہوئے میرے ساتھ میں اک لڑکی بیٹھ گئی جسکی قربت میں نے بہت محسوس کی۔ آپ اسے میری فرسٹیشن سمجھیں کا کچھ بھی۔ محسوس کی تو بول دی اب آپکی مرضی اسے تحریر کریں یا نہ کریں۔ آپ منٹو پڑہ سکتے ہیں ہم محسوس بھی نہیں کر سکتے؟ (یہ انکا گلہ تھا مجھ سے )۔"

میں نے ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ ان سے روداد سفر اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی اجازت مانگی اور اس فرسٹیشن کا حل بھی پوچھا تو انکا جواب تھا آپ اس سوال کو ڈسکشن کے لئے چھوڑ دیں۔

3 comments :

ج پ said...

بہت خوب۔ پہلی بار آپ کے بلاگ پر آمد ھوئی۔ رفت ھونے سے پہلے کوشش کروں گا کہ باقی رٹن مٹیریل بھی پڑھ کر جاوں۔
ویسے رٹن ٹیسٹ اور وائیوا کے لفظ ابھی اردو یا پنجابی کا حصہ نہیں بنے۔ امید ھے میرے اور آپ کے مسسلسل استعمال سےبن جائین گے۔ یہی اردو کی خوبصورتی ھے کہ جو آئے اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ھے۔
لکھتے رھیں۔

Anonymous said...

بہت خوب۔ کمنٹ نستعلیق میں اور باقی کی سائٹ نستعلیق کے بغیر۔

Ahmad Abdullah said...

بہت شکریہ حوصلہ افزائی کا۔ میرے پاس سائیٹ نستعلیق میں دکھائی دے رہی ہے۔

Post a Comment

Powered by Blogger.

My Blog List

Ads Banner

Followers

Site Info